آئی ایس ایس آئی کے سینٹر فار اسٹریٹیجک پرسپیکٹیوز (سی ایس پی) نے “روٹس بنیتھ دا سنو” کے عنوان سے ایک کتاب کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا
ستمبر 10, 2026

انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے سینٹر فار اسٹریٹیجک پرسپیکٹیوز (سی ایس پی) نے “روٹس بنیتھ دا سنو” کے عنوان سے ایک کتاب کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا۔ یہ کتاب میاں وحید الدین کی تصنیف ہے۔ کتاب میں ناروے میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے تجربات، ان کے انضمام کے عمل اور تارکین وطن کی برادریوں اور اپنے وطن سے قائم دیرپا تعلقات کو موضوع بنایا گیا ہے۔
اپنے تعارفی کلمات میں ڈاکٹر نیلم نگر، ڈائریکٹر سینٹر فار اسٹریٹیجک پرسپیکٹیوز نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر گفتگو اکثر اعداد و شمار تک محدود رہتی ہے جیسے تارکین وطن کی تعداد، ترسیلات زر اور معاشی تعاون۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار کہانی کا صرف ایک حصہ ہیں، کیونکہ ان کے پیچھے وہ لوگ موجود ہیں جن کی یادیں، تجربات، خواہشات اور اپنے وطن سے دیرپا تعلق ہے۔
سفیر خالد محمود، چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس ایس آئی نے کہا کہ “روٹس بنیتھ دا سنو” تعلیمی تحقیق اور کہانی بیان کرنے کے انداز کو یکجا کر کے ہجرت اور انضمام کے موضوع کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں 1970 کی دہائی میں پاکستانی تارکین وطن کے ناروے کے سفر کا احاطہ کیا گیا ہے، جس میں ان کی جدوجہد، معاشی ترقی، فیملی ری یونین، سکونت اور روایتی اقدار کو اپنائے گئے معاشرے کی اقدار کے ساتھ متوازن رکھنے کی کوشوں کو پیش کیا گیا ہے۔
جناب ذوالفقار احمد، سیکرٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ نے وفاقی وزیر برائے بیرون ملک پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی ترسیلات زر، سرمایہ کاری، علم اور مہارت کے ذریعے اپنے خاندانوں اور وطن سے گہرا تعلق برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاست کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ روزگار کے لیے بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کو ضروری مہارتیں حاصل ہوں اور وہ یہ مواقع محفوظ، قانونی اور باعزت طریقے سے حاصل کر سکیں۔
سفیر سگوالڈ ہاؤگے، پاکستان میں ناروے کے سفیر نے 1960 کی دہائی کے آخر سے ناروے میں پاکستانی ہجرت کی تاریخ اور ناروے کی معاشی، پیشہ ورانہ اور ثقافتی زندگی میں اس برادری کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی تارکین وطن پاکستان اور ناروے کے درمیان ایک اہم پل بن چکے ہیں اور مصنف کی اس مشترکہ تاریخ کو دستاویزی شکل دینے کی کوشش کو سراہا۔
کتاب کے مصنف میاں وحید الدین نے کہا کہ “روٹس بنیتھ دا سنو” ناروے میں پاکستانی تارکین وطن کے انضمام پر ان کی تحقیق سے اخذ کی گئی ہے۔ انہوں نے اسے “فیکشن” یعنی حقائق اور افسانے کا امتزاج قرار دیا اور اس کے منفرد آڈیو ویژول فارمیٹ کو اجاگر کیا جس میں 36 ابواب اور 48 QR لنک والے ویڈیوز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں پاکستانی برادری کے احساس تعلق کے ارتقاء کو بھی بیان کیا گیا ہے، بشمول ناروے کو بتدریج اپنا گھر تسلیم کرنے کا عمل۔
کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے ایئر چیف مارشل (ر) سہیل امان اور سفیر اعزاز احمد چوہدری نے ہجرت اور انضمام سے جڑے ثقافتی، خاندانی اور شناخت سے متعلق چیلنجز کو اجاگر کیا۔ انہوں نے معاشی ترقی کے ساتھ خاندانی تعلقات، ثقافتی اقدار اور وطن سے جڑاؤ کو متوازن رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، اور ساتھ ہی اپنائے گئے ملک کے قوانین، اقدار اور سماجی اصولوں کا احترام کرنے کی ضرورت کو بھی نمایاں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب انضمام کے لیے اپنی وراثت ترک کرنا ضروری نہیں ہے اور بیرون ملک پاکستانی تیزی سے جڑتی ہوئی دنیا میں پاکستان اور اپنے اپنائے گئے معاشروں کے درمیان ایک بامعنی پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تقریب کا اختتام کتاب کی باضابطہ رونمائی اور گروپ فوٹو کے ساتھ ہوا۔








