پریس ریلیز: آئی ایس ایس آئی-پائیدار: مراکش کے یومِ تخت نشینی کی تقریب کا انعقاد

75
پریس ریلیز
آئی ایس ایس آئی-پائیدار: مراکش کے یومِ تخت نشینی کی تقریب کا انعقاد  
اگست  17, 2026

انسٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے سینٹر فار افغانستان مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ (کیمیا) نے پاکستان افریقہ انسٹیٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ اینڈ ریسرچ (پائیدار) کے اشتراک سے مراکش کے یومِ تخت نشینی کی یاد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی مراکش کے سفیر محمد کرمون تھے اور مہمانِ اعزاز وزارتِ خارجہ پاکستان کے ایڈیشنل فارن سیکرٹری برائے افریقہ سفیر حامد اصغر خان تھے۔  اس موقع پر سینیٹر مشاہد حسین سید، صدر پائیدار؛ سید عادل گیلانی، سفیرِ پاکستان برائے مراکش؛ سفیر خالد محمود، چیئرمین بورڈ آف گورنرز آئی ایس آئی؛ سفیر معین الحق، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی؛ اور ڈاکٹر آمنہ خان، ڈائریکٹر کیمیا نے بھی خطاب کیا۔

اپنے خیرمقدمی کلمات میں سفیر معین الحق نے پاکستان اور مراکش کے درمیان طویل اور تاریخی دوستی کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مراکش کی بھرپور تہذیبی وراثت اور شاہ محمد ششم کی بصیرت افروز قیادت میں ملک کی قابلِ ذکر ترقی اور جدیدیت کو بھی سراہا۔

سفیر محمد کرمون نے شاہ محمد ششم کی قیادت میں مراکش کی معاشی اور سماجی ترقی کو نمایاں کیا، بالخصوص صنعت، سیاحت، قابلِ تجدید توانائی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں۔ انہوں نے پاکستان-مراکش کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر بھی زور دیا جو باہمی احترام، اعتماد اور تعاون کی بنیاد پر سات دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی اور ادارہ جاتی مشغولیت، اعلیٰ سطح کے تبادلوں اور بین الاقوامی فورمز پر ہم آہنگی کا ذکر کرتے ہوئے دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور مشترکہ ترقیاتی اہداف کے حصول کے عزم کا اعادہ کیا۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے پاکستان اور مراکش کے درمیان تاریخی اور پائیدار تعلقات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے مراکش کی جدوجہدِ آزادی میں پاکستان کی حمایت اور تنظیمِ اسلامی تعاون (او آئی سی) کے قیام میں مراکش کے کلیدی کردار کو یاد کیا۔ انہوں نے مراکش کی بھرپور تاریخ، ثقافتی وراثت اور معروف مہمان نوازی کی بھی تعریف کی اور پاکستان-مراکش دوستی کے مضبوط اور دیرپا ہونے کا اعادہ کیا۔

سفیر سید عادل گیلانی نے پاکستان-مراکش کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے 2026 میں اعلیٰ سطح کے تبادلوں کے ذریعے دو طرفہ تعلقات میں بڑھتی ہوئی رفتار کا ذکر کیا۔ انہوں نے تجارت، زراعت، سرمایہ کاری، تعلیم، سلامتی اور سیاحت میں بڑھتے ہوئے تعاون کو نمایاں کیا۔ انہوں نے مراکش کے اہم علاقائی اور افریقی کردار اور پاکستان کی “انگیج افریقہ” پالیسی کے لیے اس کی اہمیت پر زور دیا اور کثیرالجہتی فورمز پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی ہم آہنگی کو بھی سراہا۔

سفیر حامد اصغر خان نے امن و سلامتی، سیاحت، غیر ملکی سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے میں مراکش کی کامیابیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے خاص طور پر سیاحت کے شعبے کی کامیابی کا ذکر کیا جہاں گزشتہ سال 18 ملین سیاحوں کی آمد اور 14 بلین ڈالر کی آمدنی ریکارڈ کی گئی۔ انہوں نے زراعت، غذائی تحفظ، تعلیم، پانی اور کچرے کے انتظام کے شعبوں میں پاکستان-مراکش تعاون کے مواقع پر بھی روشنی ڈالی۔

ڈاکٹر آمنہ خان نے اپنے ابتدائی کلمات میں شاہ محمد ششم کی قیادت میں مراکش کی ترقی اور افریقہ میں اس کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پاکستان-مراکش کے تاریخی اور خوشگوار تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افریقی براعظم کے ساتھ پاکستان کی مشغولیت کے لیے مراکش ایک کلیدی شراکت دار ہے۔

اختتامی کلمات میں سفیر خالد محمود نے مراکش کی اسٹریٹیجک حیثیت کو سب صحارا افریقہ اور وسیع تر دنیا کے درمیان ایک پل کے طور پر اجاگر کیا اور تجارت، سرمایہ کاری، صنعت اور دیگر شعبوں میں پاکستان کے لیے مواقع کا ذکر کیا۔ انہوں نے دو طرفہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور مراکش کے سفارتخانے کی جانب سے ملک کی بھرپور ثقافت اور وراثت کو پیش کرنے اور دونوں ممالک کو قریب لانے کی کاوشوں کو سراہا۔