​​پریس ریلیز-آئی ایس ایس آئی کی جانب سے تجربہ کار بیوروکریٹ سلمان فاروقی کی کتاب “ڈیئر مسٹر جناح” کی رونمائی کی میزبانی

415

​​پریس ریلیز

آئی ایس ایس آئی کی جانب سے تجربہ کار بیوروکریٹ سلمان فاروقی کی کتاب “ڈیئر مسٹر جناح” کی رونمائی کی میزبانی

انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک اسٹڈیز میں معروف بیوروکریٹ سلمان فاروقی کی کتاب “ڈئیر مسٹر جناح’ پاکستانی سول سرونٹ کی 70 سالہ زندگی” کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔ “ڈیئر مسٹر جناح” سلمان فاروقی کی ذاتی یادداشتوں پر مشتمل ہے جو 1947 سے 2017 تک ملک کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ہونے والی پیش رفتوں کی آنکھوں دیکھی تصویر پیش کرتی ہے۔ اپنے طویل اور ممتاز کیریئر کے دوران، سلمان فاروقی نے اعلیٰ سطحی عہدوں مثلا وفاقی سیکرٹری، سفیر ایٹ لارج، صدر کے سیکرٹری جنرل، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، اور وفاقی محتسب کے طور پر خدمات انجام دیں۔ تقریب کے مقررین میں سینیٹر مشاہد حسین سید، منیجنگ ڈائریکٹر لائٹ اسٹون پبلشرز امینہ سعید، ممتاز سرکاری افسران شکیل درانی اور اعجاز رحیم، سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر اور ممتاز صحافی نسیم زہرہ شامل تھے۔

اپنے استقبالیہ کلمات میں ڈی جی آئی ایس ایس آئی ایمبسیڈر سہیل محمود نے جناب سلمان فاروقی کے شاندار کیریئر اور ان کی گراں قدر خدمات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے خصوصیت کے ساتھ جناب سلمان فاروقی کی زندگی کے تین پہلو نمایاں کیے جن میں ان کی بے پناہ پیشہ ورانہ قابلیت، عاجزی اور حکمت شامل ہیں۔ ایک ایسی شخصیت میں یہ اوصاف ہونا اور قابل رشک ہے جس نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں زبردست عروج دیکھا اور اقتدار کی راہداریوں میں طویل وقت گزارا ہے۔ سہیل محمود کے خیال میں مصنف کی زندگی اور کیریئر میں دوسروں کے لیے بہت سے اسباق ہیں۔

جناب سہیل محمود نے مزید کہا کہ کتاب میں موجود سلمان فاروقی کا خط بنام بابائے قوم کئی حوالوں سے غیر معمولی ہے، کیونکہ یہ قائد کے جمہوری اور ترقی پسند پاکستان کے وژن پر مصنف کے غیر متزلزل یقین کا عکاس ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ کتاب نہ تو پاکستان کی تاریخ ہے اور نہ ہی اقتدار کی سیاست کے بارے میں انکشافات پر مبنی کتاب ہے۔ بلکہ، جیسا کہ خود مصنف نے صراحت سے بیان کیا ہے، یہ کٹھن حالات کے کنارے کھڑے ہوکر کی گئی گورننس کی یادداشت ہے جس دوران پیش آنے والے واقعات کے بیان میں مصنف نے اپنی جانب سے کڑی معروضیت سے کام لیا ہے۔  انہوں نے زور دے کر کہا کہ کتاب پرھتے ہوئے سلمان فاروقی کا ہیولہ بطور سرکاری افسر کسی سخت گیر داروغہ کا نہیں بلکہ امید کے پیامبر کا ابھرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قارئین، بالخصوص نوجوان کتاب میں بکھرے تجربے اور حکمت سے مستفید ہوں گے۔

محترمہ امینہ سعید نے “ڈیئر مسٹر جناح” کو ایک شاندار اور دلکش یادداشت کے طور پر بیان کیا جو مصنف کی جدوجہد اور کامیابیوں کے ساتھ ساتھ پیش آنے والے دلچسپ واقعات کا مجموعہ بھی ہے۔ امینہ سعید کا خیال تھا کہ یہ کتاب دو طرح کے افراد کے لیے خاص طور پر موزوں ہے یعنی طلبہ اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں اہل وطن۔ بطور ناشر انہوں نے تجویز دی کہ کاغذ پر عائد ٹیکس کو کم یا ختم کیا جائے، تاکہ قارئین کا زیادہ وسیع حلقہ ان تک رسائی حاصل کر سکے۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے اپنی گفتگو کے آغاز میں محترمہ امینہ سعید کو لکھنے اور پڑھنے کے مفید رجحان کو فروغ دینے پر خراج تحسین پیش کیا، جس کی تازہ ترین مثال جناب سلمان فاروقی کی مذکورہ کتاب ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین نے مصنف کو اپنی دھن کا پکا اور عمل کرکے دکھانے والا افسر قرار دیا، جنھوں نے سرکاری میدان میں اپنے طویل کیرئیر کے دوران شاندار خدمات انجام دیں۔ مقرر نے جناب سلمان فاروقی کی خدمات بالخصوص معذور افراد کے لیے ان کی کاوشوں، چین اور سنگاپور پورٹ اتھارٹی کے تعاون سے گوادر بندر گاہ کو فعال کرنے، اور پاکستانی معیشت و بہبود میں جدت کی خاطر اختیار کی جانے والی معاشی و سماجی پالیسیوں پر انھیں خراج عقیدت پیش کیا۔ اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے جناب سلمان فاروقی کی ھالیہ کتاب کو بہترین روایت، عزم، خلوص اور محنت کی قابل رشک داستان قرار دیا۔

جناب شکیل درانی نے سلمان فاروقی کا تعارف اُس 8 سالہ لڑکے کے طور پر کرایا جس نے آزادی کے وقت پٹیالہ سے لاہور آنے والی ریل گاڑی پر اپنے شاندار سفر کا آغاز کیا۔ انہوں نے پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کے انقلاب اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سمیت متعدد اقدامات کا سہرا جناب فاروقی کو دیا۔ شکیل درانی نے مصنف کو مشورہ دیا کہ چونکہ انہوں نے مارچ، اپریل 2019 کے ان واقعات کا مشاہدہ ذاتی طور پر کیا جب پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بازی پلٹ دی تھی، لھذا وہ اپنے تجزیے میں ان پیش رفتوں کی مزید وضاحت کریں تاکہ ان تجربات کی مزید جامع تفہیم ہو سکے۔

جناب فرحت اللہ بابر نے کتاب کے اہم نکات پر روشنی ڈالی اور ریاست اور معاشرے کے لیے جناب فاروقی کی ان نمایاں ترین خدمات کی تعریف کی جو انہوں نے وفاقی محتسب کے طور پر اپنے دور میں انجام دی تھیں۔ انہوں نے مختلف سیاسی رہنماؤں بالخصوص مھترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے ساتھ اپنے ذاتی تجربات کا ذکر بھی کیا، اور پاکستان کی تاریخ کے کئی اہم واقعات پر روشنی ڈالی۔ فرحت اللہ بابر نے سامعین کو مشورہ دیا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے باوجود ملک کے مستقبل کے بارے میں پر امید اور پرعزم رہنا چاہیے۔

جناب اعجاز رحیم نے کتاب کے مرکزی موضوع پر بات کرتے ہوئے اسے طاقت کی مختلف شکلوں یعنی انتظامی، سیاسی، سماجی، ادارہ جاتی اور انفرادی طاقت کی وضاحت قرار دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ طاقت اور عہدہ اپنے ساتھ انصاف کو یقینی بنانے اور انسانی وقار کو بڑھانے کی ذمہ داری لے کر آتا ہے۔ انہوں نے کتاب کو ایک نغمہ قرار دیا جو مسٹر فاروقی کی زندگی بھر کی جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے۔

نسیم زہرہ نے کتاب کو ایک انتہائی قابل مطالعہ اور بروقت عملی کوشش کے طور پر سراہا جو ماضی کی غلطیوں کے شیطانی چکر سے ملک کو آزاد کروانے کی یاد دہانی کرواتی ہے۔ ان کے خیال میں، یہ کتاب ایک ایسا سفر ہے جو قارئین کو پاکستان کے کمزور ترین آغاز سے لے کر اس کی موجودہ حیثیت تک لے جاتا ہے،۔ اور یوں گزشتہ کئی دہائیوں میں ملک کے سفر کے بارے میں قابل قدر وضاحت فراہم کرتی ہے۔

تقریب رونمائی میں سول سروس، اہل علم، سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔