پریس ریلیز – یوتھ پارلیمنٹ کے وفد کا آئی ایس ایس آئی کا دورہ “پاکستان کی خارجہ پالیسی کی عالمی اور علاقائی تناظر”- تناظر

4978
پریس ریلیز
چائنا پاکستان اسٹڈی سینٹر (سی پی ایس سی)، انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد
یوتھ پارلیمنٹ کے وفد کا آئی ایس ایس آئی کا دورہ
“پاکستان کی خارجہ پالیسی کی عالمی اور علاقائی تناظر”
2 فروری 2023
 
انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز، اسلام آباد میں چائنا پاکستان سٹڈی سینٹر نے یوتھ پارلیمنٹ کے ایک وفد کی میزبانی کی جس میں ‘پاکستان کی خارجہ پالیسی کی عالمی اور علاقائی تناظر کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سوال و جواب کےسیشن سے آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل ایمبیسڈر سہیل محمود نے خطاب کیا۔ یوتھ پارلیمنٹ کے وفد کی قیادت جناب رضوان جعفر نے کی۔ ڈاکٹر طلعت شبیر، ڈائریکٹر سی پی ایس سی نے اپنے تعارفی کلمات میں مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور مہمانوں کو آئی ایس ایس آئی کے بارے میں بریفنگ دی ۔
 
یوتھ پارلیمنٹ کے اراکین کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے ایمبیسڈر سہیل محمود نے تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی ماحول کے درمیان پاکستان کی خارجہ پالیسی کی عالمی اور علاقائی تناظر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ بین الاقوامی حالات تیزی سے تنزلی کی طرف جا رہے ہیں ۔ ریاستوں کو، اپنے اپنے مفادات کو مد نظر رکھتےہوئے بین الاقوامی امن آشتی کا چیلنج درپیش ہے۔ انہوں نے ریاستوں کی خارجہ پالیسی کے چند اہم عوامل پر روشنی ڈالی – بشمول جغرافیہ، شناخت، تاریخ، وسائل کی فراہمی، قیادت، اقتصادی ضروریات، حد سے زیادہ پرانے تزویراتی تصورات، اور قومی اداروں کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ریاستوں کی اندرونی استحکام اور ان کے بیرونی اثر و رسوخ کے درمیان اہم تعلق پر بھی زور دیا۔
ایمبیسڈر محمود نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ’پرامن ہمسائیگی‘ کے تزویراتی تصور، تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے عزم اور باہمی تعاون پر مبنی کثیرالجہتی خیال پر مبنی ہے۔ ملک کے نقطہ نظر میں سب سے حالیہ تبدیلی جیوسٹریٹیجک سے جیو اکنامکس کی طرف تھی۔
 
ایمبیسڈر سہیل محمود نے امریکہ، چین، روس، مسلم دنیا، یورپی یونین، جاپان، آسیان اور افریقہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر روشنی ڈالی۔ علاقائی تناظر میں افغانستان اور بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ جموں و کشمیر تنازعہ کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی نوید ہے۔  ایمبیسڈر سہیل محمود نے عالمی مسائل جیسے کہ کرونا وائرس، موسمیاتی تبدیلی، اسلامو فوبیا، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات پر پاکستان کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔
جناب رضوان جعفر نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح یوتھ پارلیمنٹ ایک قومی سطح کی تنظیم میں تبدیل ہوئی ہے جس کی عالمی سطح پر رسائی ہے۔ انہوں نے روشنی ڈالی کہ تنظیم کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے جو اس ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ ان کی ترقی انہیں پالیسی سازی میں موثر شرکت اور بہتر طریقے سے پاکستان کی نمائندگی کرنے کی طرف لے جائے گی۔
 
ایونٹ کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں شرکاء نے بہت سے سوالات پوچھے۔ آخر میں چیئرمین بی او جی ایمبیسڈر خالد محمود نے اپنے اختتامی کلمات کہے جس کے بعد یوتھ پارلیمنٹ کے دورے پر آئے ہوئے وفد کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔