پریس ریلیز
آئی ایس ایس آئی نے ‘امریکہ-ایران کشیدگی اور اس کے علاقائی اثرات’ پر خصوصی رپورٹ کے اجراء کی میزبانی کی

انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ (کیمیا) نے ‘امریکہ-ایران کشیدگی اور اس کے علاقائی اثرات’ کے عنوان سے خصوصی رپورٹ کے اجراء کی میزبانی کی۔ تقریب سے مہمانِ خصوصی سفیر ملیحہ لودھی نے خطاب کیا۔ اس موقع پر سفیر خالد محمود، چیئرمین بورڈ آف گورنرز، آئی ایس ایس آئی، اور ڈاکٹر آمنہ خان، ڈائریکٹر، سینٹر فار افغانستان، مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ (کیمیا)، آئی ایس آئی نے بھی اظہارِ خیال کیا۔
خصوصی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے سفیر ملیحہ لودھی نے سینٹر فار افغانستان مڈل ایسٹ اینڈ افریقہ، آئی ایس آئی کی ایک اہم اور بروقت خصوصی رپورٹ پیش کرنے کی کاوش کو سراہا۔ انہوں نے اس اشاعت کو امریکہ-ایران جنگ کا ایک وسیع جائزہ قرار دیا اور اس کے معاونین کے تنوع کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی اہم علاقائی مسئلے پر مختلف نقطہ نظر یکجا کرتی ہے۔ انہوں نے خصوصی رپورٹ میں پاکستان کے ثالثی کردار کے ذکر کو بھی سراہا اور کہا کہ پاکستان کو امریکہ اور ایران دونوں کا اعتماد حاصل ہے، جو اسے تعمیری سفارتی کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ سفیر لودھی نے زور دیا کہ علاقائی سلامتی کا انحصار محض بیرونی کرداروں پر نہیں ہو سکتا، کیونکہ ان کی شمولیت ضروری نہیں کہ طویل مدتی استحکام کی ضمانت دے۔ انہوں نے زیادہ علاقائی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا اور پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کو ایک اہم گروپ قرار دیا جو علاقائی امن و استحکام میں حصہ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تنازع پر غور کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس معاہدے نے چار ماہ کی جنگ کا خاتمہ کیا اس نے پیچیدہ سیاسی تنازعات کو حل کرنے میں فوجی طاقت کی حدود اور حتمی ناکامی کو ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں امریکہ کے لیے یہ جنگ ایک “اختیاری جنگ” تھی، وہیں ایران کے لیے یہ ایک وجودی جدوجہد تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ “طاقت ہی حق ہے” کے تصور کو چیلنج کیا گیا ہے، اور دلیل دی کہ صرف فوجی برتری سیاسی مقاصد حاصل نہیں کر سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اپنے بیان کردہ مقاصد، بشمول حکومت کی تبدیلی یا ایران کے جوہری انفراسٹرکچر کی مکمل تباہی، حاصل نہیں کر سکا۔
سفیر لودھی نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ امریکی صدر کی جانب سے دھمکیاں اور الٹی میٹم جاری کیے گئے، لیکن تنازع کے ساتھ ساتھ سفارتکاری بھی جاری رہی۔ انہوں نے وسیع تر سوال اٹھایا کہ کیا اس تنازع نے بین الاقوامی نظام میں امریکی غلبے کو کم کیا ہے، اور کہا کہ یہ مزید جائزے کا ایک اہم نکتہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پورے بحران کے دوران شدید سفارتی کوششیں جاری رہیں اور بالآخر کشیدگی میں کمی کی کوششوں میں معاون ثابت ہوئیں۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں بین الاقوامی منظرنامے کو نئی شکل دے رہی ہیں اور دنیا غیر یقینی کے ایک بڑے دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی رپورٹ ابھرتی ہوئی علاقائی کشیدگیوں کے بارے میں قیمتی بصیرت فراہم کرتی ہے اور خطے کو درپیش چیلنجز کی بہتر تفہیم میں معاون ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر خالد محمود نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ عالمی امن، سلامتی اور اقتصادی استحکام کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے امریکہ-ایران کشیدگی خطے اور اس سے آگے کے لیے سب سے زیادہ اہم مسائل میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے جس نے کشیدگی میں کمی، مکالمے اور نئی مشغولیت کے لیے گنجائش پیدا کی ہے، اور اس عمل میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو اجاگر کیا۔ پاکستان کے اس مستقل موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہ تنازعات کو مکالمے، خودمختاری کے احترام اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کیا جانا چاہیے، انہوں نے کہا کہ خصوصی رپورٹ ایک بروقت اور قیمتی شراکت ہے جو ابھرتے ہوئے علاقائی سلامتی کے ماحول کا متوازن تجزیہ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن و استحکام صرف سفارتکاری، اعتماد سازی اور جامع علاقائی تعاون کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، اور ڈائریکٹر آمنہ خان اور کیمیا کی ٹیم کو ایک ایسی تحقیق پیش کرنے پر سراہا جو پالیسی سازوں، سفارتکاروں، اسکالرز اور پریکٹیشنرز کے لیے مفید ثابت ہوگی۔
ڈاکٹر آمنہ خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عصری مشرقِ وسطیٰ کو تشکیل دینے والی سب سے اہم جغرافیائی سیاسی پیش رفتوں میں سے ایک کے طور پر ابھری ہے۔ جو ایک دوطرفہ تزویراتی رقابت کے طور پر شروع ہوئی تھی وہ اب علاقائی سلامتی، سفارتکاری، معاشیات اور توانائی کی سیاست میں ایک فیصلہ کن عنصر بن چکی ہے، جس کے اثرات خلیجی خطے سے کہیں آگے تک پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلسل تنازعات، بدلتے ہوئے اتحاد، بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی مسابقت، اور ابھرتے ہوئے اقتصادی و سلامتی کے چیلنجز علاقائی منظرنامے کو مسلسل نئی شکل دے رہے ہیں۔ ان پیش رفتوں کے بین الاقوامی سلامتی، علاقائی استحکام، بحری تجارت، توانائی کی منڈیوں اور عالمی سفارتکاری پر دور رس نتائج مرتب ہو رہے ہیں۔
تقریب کا اختتام ایک بھرپور باہمی مکالمے اور سوال و جواب کے سیشن پر ہوا، جس کے دوران شرکاء نے خصوصی رپورٹ کے اہم نتائج اور ابھرتے ہوئے علاقائی سلامتی کے ماحول پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ سابق وزیرِ خارجہ سفیر انعام الحق، ممتاز پریکٹیشنر جناب زیاد اللہ داد، نامور سائنسدان جناب شوکت حمید خان، اور دیگر معاونینِ تحریر نے بھی بحث میں حصہ لیا اور خصوصی رپورٹ کے اہم موضوعات پر اپنی آراء پیش کیں۔ تقریب میں سفارتکاروں، ماہرینِ تعلیم، محققین، طلبہ، اسٹریٹجک کمیونٹی کے ارکان اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی








