پریس ریلیز: آئی ایس ایس آئی اور یوتھ فورم فار کشمیر (وائی ایف کے) نے “یومِ الحاقِ پاکستان: تاریخ کا ازسرِ نو جائزہ، مستقبل کی تشکیل” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا

1910

پریس ریلیز  

آئی ایس ایس آئی اور یوتھ فورم فار کشمیر (وائی ایف کے) نے “یومِ الحاقِ پاکستان: تاریخ کا ازسرِ نو جائزہ، مستقبل کی تشکیل” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا
جولائی 20, 2026

یومِ الحاقِ پاکستان کی یاد میں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز، اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کے انڈیا اسٹڈی سینٹر (آئی ایس سی) نے یوتھ فورم فار کشمیر (وائی ایف کے) کے اشتراک سے “یومِ الحاقِ پاکستان: تاریخ کا ازسرِ نو جائزہ، مستقبل کی تشکیل” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر جناب رانا محمد قاسم نون، چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے، جبکہ سفیر مسعود خان، سابق صدر آزاد جموں و کشمیر مہمانِ اعزاز تھے۔ دیگر مقررین میں سفیر معین الحق، نئے مقرر کردہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس ایس آئی، محترمہ شمیم شال، کشمیری رہنما اور انسانی حقوق کی کارکن، جناب سعود سلطان، نوجوان کشمیری سکالر اور ڈاکٹر خرم عباس، ڈائریکٹر انڈیا اسٹڈی سینٹر شامل تھے۔

اپنے خیرمقدمی کلمات میں سفیر معین الحق نے کہا کہ یومِ الحاقِ پاکستان وہ دن ہے جو جموں و کشمیر کے عوام اور پاکستان کے درمیان قائم دائمی رشتے کی علامت ہے۔ تقریباً 80 سال قبل 19 جولائی 1947 کو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے ایک تاریخی قرارداد منظور کی تھی جس میں ریاست جموں و کشمیر کی مسلم اکثریت نے پاکستان سے الحاق کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ برِصغیر کی تقسیم کے بعد پیش آنے والے واقعات نے جسے ایک پرامن سیاسی منتقلی ہونا چاہیے تھا، اسے دنیا کے طویل ترین غیر حل شدہ تنازعات میں سے ایک میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مکالمے، سفارتکاری اور اس تنازعے کے پرامن حل کی وکالت کی ہے، کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اس کے منصفانہ حل سے جڑا ہوا ہے۔

مہمانِ خصوصی جناب رانا محمد قاسم نون نے کہا کہ 19 جولائی کی تاریخ ریاست جموں و کشمیر کی آزادی کی تحریک کی تاریخ میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ تقریباً آٹھ دہائیاں قبل آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے، جو کشمیری عوام کی حقیقی امنگوں کی نمائندہ تھی، سرینگر میں ایک سنگ میل قرارداد منظور کی۔ اس قرارداد نے کسی شک و شبے کے بغیر یہ اعلان کیا کہ خطے کے عوام کی خواہش جلد معرضِ وجود میں آنے والی ریاست پاکستان سے الحاق ہے۔ یہ قرارداد محض ایک سیاسی اقدام نہیں تھی، بلکہ جموں و کشمیر کے عوام اور پاکستان کے درمیان ثقافتی، مذہبی اور نظریاتی ہم آہنگی کا واضح اور طاقتور اظہار تھی۔ یومِ الحاقِ پاکستان پر پاکستان بھر اور دنیا بھر میں پاکستانی جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کو بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد میں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ جناب نون نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کی جائز امنگوں کو تسلیم کرے اور مقبوضہ علاقے میں جاری ناانصافیوں، آبادیاتی تبدیلیوں اور آزادیوں پر قدغن کے خلاف عملی اقدامات کرے۔

مہمانِ اعزاز سفیر مسعود خان نے کہا کہ کشمیر کا پاکستان سے الحاق پاکستان کی نظریاتی بنیادوں سے جڑا ہوا ہے۔ برِصغیر کی تقسیم سے پہلے کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانوی راج کے خاتمے کے بعد مسلم اکثریتی علاقوں کے مستقبل پر بحثیں ہو رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام نے پاکستان سے الحاق کے وژن کے ساتھ خود کو منسلک کیا۔ تنازعے کے بین الاقوامی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے سفیر خان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کا ذکر کیا، جن میں جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کو رائے شماری کے ذریعے تسلیم کیا گیا ہے۔

اس سے قبل اپنے ابتدائی کلمات میں ڈاکٹر خرم عباس نے کہا کہ ہر سال دنیا بھر کے کشمیری 19 جولائی کو پاکستان سے الحاق کے دن کے طور پر مناتے ہیں۔ یہ دن درحقیقت پاکستان سے الحاق کی خواہش کے اظہار کا نقطہ آغاز ہے۔ چونکہ جموں و کشمیر اور پاکستان کے درمیان جغرافیائی، معاشی، ثقافتی اور مذہبی روابط موجود تھے، اس لیے پاکستان سے الحاق کا مطالبہ ایک فطری انتخاب تھا۔

محترمہ شمیم شال نے اپنے کلمات میں 1947 کی نوجوان کشمیری قیادت کی دور اندیشی کو خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے یہ تسلیم کیا کہ ان کا مستقبل اور خوشحالی پاکستان سے الحاق میں ہے۔ انہوں نے بھارتی قبضے میں رہنے والے کشمیری عوام کی مشکلات کو جذباتی انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ برہان وانی کی شہادت کے بعد ہزاروں نوجوان کشمیریوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ پیلٹ گنز کے استعمال نے بہت سے نوجوان کشمیریوں کے خواب چھین لیے ہیں، جن میں انشاء ملک کی مثال سب سے نمایاں ہے۔ کشمیری قیادت، خواہ وہ شبیر شاہ ہوں، آسیہ اندرابی ہوں یا ڈاکٹر عاشق حسین فکتو، کئی سالوں سے بھارتی جیلوں میں قید ہیں، جبکہ بھارتی حکومت یاسین ملک کے لیے سزائے موت کا اعلان کرنے کی ہر ممکن کوش کر رہی ہے۔

جناب سعود سلطان نے کہا کہ مہاراجہ کے 26 اکتوبر 1947 کو الحاق نامے پر دستخط کرنے کے بھارتی دعوے کو معروف مورخین جیسے ایلسٹیر لیمب اور وکٹوریہ سکوفیلڈ نے رد کر دیا ہے۔ یہی حقیقت جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے کو غیر قانونی بناتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہاراجہ پہلے ہی ریاست کے بڑے حصوں پر کنٹرول کھو چکا تھا، اس لیے وہ مبینہ الحاق نامے پر دستخط کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں تھا۔ سعود سلطان نے ذمہ دارانہ تحقیق، وکالت اور ڈیجیٹل مصروفیت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ قابلِ اعتبار شواہد کے ساتھ غلط معلومات کا مقابلہ کریں اور باخبر بین الاقوامی مکالمے میں تعمیری کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کا ایک مضبوط تاریخی رشتہ ہے۔ ایک مضبوط پاکستان کا مطلب دنیا بھر میں کشمیر کے مقدمے کا زیادہ مضبوط ہونا ہے۔

اپنے اختتامی کلمات میں سفیر خالد محمود نے کہا کہ مسلم کانفرنس نے فیصلہ کیا تھا کہ کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا اور یہ فیصلہ پاکستان کے قیام سے پہلے کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ سطحی طور پر نہیں کیا گیا تھا، بلکہ یہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان مذہبی، جغرافیائی، ثقافتی اور معاشی روابط کی ٹھوس بنیادوں پر مبنی تھا۔ بالآخر اس خطے کا حتمی فیصلہ کشمیر کے عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ہوگا۔